🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
181. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الخصال المعدودة التي أبيح للمرء المسألة من أجلها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس گنتی خصوصیات کا ذکر جن کی وجہ سے آدمی کے لیے مانگنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" .
کنانہ بن نعیم عدوی سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ اس کے بارے میں مدد مانگوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ تم ٹھہرے رہو جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لئے جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو، جس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3387»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قبيصة بن المخارق الهلالي، أبو بشرصحابي
👤←👥كنانة بن نعيم العدوي، أبو بكر
Newكنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي
ثقة
👤←👥هارون بن رئاب التميمي، أبو الحسن، أبو بكر
Newهارون بن رئاب التميمي ← كنانة بن نعيم العدوي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← هارون بن رئاب التميمي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥حوثرة بن الأشرس العتكي، أبو عامر
Newحوثرة بن الأشرس العتكي ← حماد بن زيد الأزدي
مقبول
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← حوثرة بن الأشرس العتكي
ثقة مأمون