صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
181. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الخصال المعدودة التي أبيح للمرء المسألة من أجلها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس گنتی خصوصیات کا ذکر جن کی وجہ سے آدمی کے لیے مانگنا جائز ہے
حدیث نمبر: 3395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، فَاسْتَعَانَ بِهِ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُمْ شَيْئًا، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ كِنَانَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ، وَأَتَوْكَ يَسْأَلُونَكَ، فَلَمْ تُعْطِهِمْ شَيْئًا، قَالَ: أَمَّا فِي هَذَا، فَلا أُعْطِي شَيْئًا، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُعِينَنِي، فَقَالَ:" بَلْ نَحْمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ، وَنُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لِثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ، حَتَّى يُؤَدِّيَهَا، أَوْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ" أَرَادَ بِهِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي سِوَى هَذِهِ الأَشِيَاءِ الثَّلاثَةِ مِنَ السُّلْطَانِ عَنْ فَضْلِ حِصَّتِهِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ سُحْتٌ، لأَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْخِصَالِ الثَّلاثَةِ مِنْ غَيْرِ السُّلْطَانِ عَنْ غَيْرِ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ تَكُونَ سُحْتًا إِذَا كَانَ مُسْتَغْنٍ بِمَا عِنْدَهُ.
کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے اسے کچھ دینے سے انکار کر دیا وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گے۔ کنانہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں وہ لوگ آپ کے پاس کچھ مانگنے آئے تھے آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں انہیں کچھ بھی نہیں دوں گا میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قبیصہ تمہاری طرف سے ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے ان لوگوں کو ادائیگی کر دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہوتا ہے۔ ایک وہ شخص جس کے ذمے ادائیگی لازم ہو، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس ادا ئیگی کو کر دے یا جسے کوئی آفت لاحق ہو جائے اس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، تو جب تک اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے لیے مانگنا جائز ہے اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو جائے اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لیے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان ہو جائے اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: حاکم وقت سے بیت المال میں سے اپنے مخصوص حصے سے اضافی طور پر ان تین چیزوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: ان تین خصوصیات کے علاوہ کی صورت میں حاکم وقت کے علاوہ کسی اور سے مانگنا مسلمانوں کے بیت المال میں سے وصولی نہ ہو۔ اس وقت حرام ہو گا جب انسان کے پاس اتنا کچھ موجود نہ ہو جس کی موجودگی میں (کسی سے مانگنے سے) بے نیاز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3386»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1448): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" .
کنانہ بن نعیم عدوی سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ اس کے بارے میں مدد مانگوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ تم ٹھہرے رہو جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لئے جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو، جس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3387»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح