صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب السحور
سحری کا بیان -
حدیث نمبر: 3460
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، بِهَرَاةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا، فَحَضَرَهُ الإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ، أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لا، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ، هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 187، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہوتا اور افطاری کا وقت قریب آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس پوری رات میں کچھ نہیں کھا سکتا تھا اور اس سے اگلے دن شام تک بھی کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت قریب آیا، تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، لیکن میں جا کر تلاش کرتی ہوں وہ اس دن کام کرتے رہے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جب ان کی بیوی ان کے پاس آئی اور اس نے انہیں اس حالت میں دیکھا، تو بولی: آپ کے لیے افسوس ہے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر غشی طاری ہو گئی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”تمہارے لیے روزے (یعنی رمضان) کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت کرنے کو حلال قرار دیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں۔“ تو لوگ اس سے بہت خوش ہوئے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سفید دھاگہ تمہارے سامنے سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا جو صبح صادق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3451»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري