صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
135. باب صوم المسافر - ذكر الزجر عن صوم المرء في السفر إذا علم أنه يضعفه حتى يصير كلا على أصحابه
مسافر کے روزے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی سفر میں روزہ رکھے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ اسے کمزور کر دے گا یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں پر بوجھ بن جائے
حدیث نمبر: 3557
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ:" كُلا"، فَقَالا: إِنَّا صَائِمَانِ، فَقَالَ: " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا، ادْنُوَا فَكُلا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يُرِيدُ بِهِ: كَأَنِّي بِكُمَا وَقَدِ احْتَجْتُمَا إِلَى النَّاسِ مِنَ الضَّعْفِ إِلَى أَنْ تَقُولُوا: ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مَرُّ الظَّہْرَان کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم دونوں بھی کھاؤ۔“ ان دونوں نے عرض کی: ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ان دونوں ساتھیوں کا سامان لدواؤ، ان دونوں کے کام کاج کرو۔“ (پھر ان دونوں سے فرمایا:) ”تم دونوں آگے ہو اور کھانا کھاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ کمزوری کی وجہ سے تمہیں لوگوں کی ضرورت ہو گی۔ یہاں تک کہ تمہیں یہ کہنا پڑے گا کہ اپنے دو ساتھیوں کے لیے پالان رکھو اور اپنے دونوں ساتھیوں کے لیے کام کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3557]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2031، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3557، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1588، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2263، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8273، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8552، والبزار فى (مسنده) برقم: 8598، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9066» «رقم طبعة با وزير 3549»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (85).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3557 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي