صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. - ذكر وصف الملائكة عند نزول الوحي على صفيه صلى الله عليه وسلم-
- اس حالت کا ذکر جب فرشتوں کا نزول نبی کریم ﷺ پر وحی کے وقت ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 36
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَضَى الِلَّهِ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، حَتَّى فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، فَيَسْتَمِعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلُ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ، وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ الشِّهَابُ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ، قَالَ: وَهُمْ هَكَذَا بَعْضُهُمْ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ وَوَصَفَ ذَلِكَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَيَرْمِي بِهَا هَذَا إِلَى هَذَا، وَهَذَا إِلَى هَذَا، حَتَّى تَصِلَ إِلَى الأَرْضِ، فَتُلْقَى عَلَى فَمِ الْكَافِرِ وَالسَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كِذْبَةٍ، فَيُصَدَّقُ، وَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا، فَصَدَقَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”جباللہ تعالیٰ آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ دیتا ہے، تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے سر جھکاتے ہوئے اپنے پر یوں مارتے ہیں، جس طرح پتھر پر زنجیر ماری جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے تو وہ دریافت کرتے ہیں: تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ یہ کہتے ہیں: اس نے حق ارشاد فرمایا ہے، وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر چوری چھپے سننے والا کوئی (جن) اس بات کو سن لیتا ہے، تو بعض اوقات اس (جن) کے اسے نیچے پہنچانے سے پہلے ہی شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے، اور بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتا دیتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا شاید راوی) کہتے ہیں: وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ یہ کر کے دکھایا کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کو یہ بات بتاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ
بات زمین تک پہنچ جاتی ہے، اور کافر یا جادوگر کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔
وہ (شیطان) اس کے ساتھ ایک سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کبھی ایسا ہوتا ہے، اصل بات) کی تصدیق کر دی جاتی ہے۔ (یا وہ سچ ثابت ہوتی ہے) تو یہ کہا: جاتا ہے، کیا فلاں دن اس نے یہ بات نہیں کہی تھی، تو اس نے سچ کہا: تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 36]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر چوری چھپے سننے والا کوئی (جن) اس بات کو سن لیتا ہے، تو بعض اوقات اس (جن) کے اسے نیچے پہنچانے سے پہلے ہی شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے، اور بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتا دیتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا شاید راوی) کہتے ہیں: وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ یہ کر کے دکھایا کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کو یہ بات بتاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ
بات زمین تک پہنچ جاتی ہے، اور کافر یا جادوگر کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔
وہ (شیطان) اس کے ساتھ ایک سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کبھی ایسا ہوتا ہے، اصل بات) کی تصدیق کر دی جاتی ہے۔ (یا وہ سچ ثابت ہوتی ہے) تو یہ کہا: جاتا ہے، کیا فلاں دن اس نے یہ بات نہیں کہی تھی، تو اس نے سچ کہا: تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 36]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1293): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار، وهو الرمادي من رمادة اليمن، وليس من رمادة فلسطين، حافظ، متقن، ضابط، صحب ابن عيينة سنين كثيرة، وسمع منه مراراً، وباقي رجال السند على شرطهما.
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← أبو هريرة الدوسي