صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
103. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الخصال التي يستوجب المرء بها الجنان من بارئه جل وعلا
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - ان اوصاف کا ذکر جن کے ذریعے آدمی اپنے رب جل وعلا سے جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 373
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ:" يُؤْمِنُ بِاللَّهِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَ الإِيمَانِ عَمَلا؟ قَالَ:" يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ" قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لا شَيْءَ لَهُ؟ قَالَ:" يَقُولُ مَعْرُوفًا بِلِسَانِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ عَيِيًّا لا يُبْلِغُ عَنْهُ لِسَانُهُ؟ قَالَ:" فَيُعِينُ مَغْلُوبًا" قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لا قُدْرَةَ لَهُ؟ قَالَ:" فَلْيَصْنَعْ لأَخْرَقَ" قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ أَخْرَقَ؟ قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ:" مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ، فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ تَيْسِيرٍ؟ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا، يُرِيدُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ، إِلا أَخَذَتْ بِيَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرحمن بْنِ أُذَيْنَةَ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ.
ابوکثیر سحیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے کہ بندہ جب اسے کر لے، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ایمان کے ہمراہ کوئی عمل بھی ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے تھوڑا سا (اللہ کی راہ میں بھی) دے، میں نے عرض کیا اگر وہ کوئی ایسا شخص ہو، جس کے پاس کوئی بھی چیز نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی زبان کے ذریعے نیکی کی بات کہے میں نے عرض کی: اگر وہ ایسا معذور ہو کہ اپنی زبان کے ذریعے کچھ نہ پہنچا سکتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مغلوب شخص کی مدد کرے میں نے عرض کی: اگر وہ ایسا کمزور ہو کہ وہ اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر وہ کسی معذور کے لئے کوئی کام کرے میں نے عرض کی: اگر وہ خود معذور ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: اگر تم اس شخص کے بارے میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے، تو پھر وہ شخص لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ کلمات آسانی فراہم کرنے کے لئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو کوئی بندہ ان میں سے جو بھی کام کرے گا اور وہ اس کے ذریعےاللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا ارادہ کرے گا تو یہ عمل قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوکثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ”ثقہ“ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 373]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوکثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ”ثقہ“ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 374»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2668).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
أبو كثير السحيمي، ثقة من رجال مسلم، ووالده لم أتبينه، وفي رواية الحاكم: وكان يجالس أبا ذر، وباقي السند رجاله ثقات رجال الصحيح.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أذينة العبدي ← أبو ذر الغفاري