صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
217. باب التمتع - ذكر الخبر الدال على أن استحباب التمتع لمن قصد البيت العتيق وإيثاره على القران والإفراد
تمتع کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ بیت عتیق کا قصد کرنے والے کے لیے تمتع کا استحباب اور قران و افرد پر ترجیح ہے
حدیث نمبر: 3921
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، لا نَخْلِطُ بِغَيْرِهِ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا خَمْسٌ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ، وَلَوْلا الْهَدْيُ لأَحْلَلْتُ"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْتِعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلأَبَدِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کا تلبیہ پڑھا اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی ذوالحج کی چار تاریخ کو ہم لوگ مکہ آ گئے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرے میں تبدیل کر لیں اور ہم اپنی خواتین کے لیے حلال ہو جائیں ہم نے آپس میں یہ کہا: ہمارے اور عرفہ میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں ہم جب عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم سب سے زیادہ نیکو کار اور تم سب سے زیادہ سچا ہوں۔ اگر قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ سہولت اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3921]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3910»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1566): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري