صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
216. باب التمتع - ذكر الأمر بالتمتع لمن أراد الحج واستحبابه وإيثاره على القران والإفراد معا
تمتع کے حج کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو حج کا ارادہ کرے اس کے لیے تمتع مستحب اور ترجیحی ہے، قران اور افرد دونوں پر
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ أَبُو يَعْلَى آخَرَ مَعَهُ، قَالا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْعُمْرَةِ، أَمْ بِالْحَجِّ؟، قَالَتِ: ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ مَا قَالَتْ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجَّةٍ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عِمْرَانَ هَذَا اسْمُهُ أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ.
ابوعمران بیان کرتے ہیں:۔ انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا وہ بیان کرتے ہیں: میں اُم المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، تو کیا میں عمرے سے آغاز کروں یا پہلے حج کر لوں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو پہلے کر لو، وہ بیان کرتے ہیں: پھر میں اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی ذکر کرے (یعنی تلبیہ پڑھتے ہوئے ایسا کرے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعمران نامی راوی کا نام اسلم ابوعمران ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3909»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2469).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أسلم بن يزيد المصري ← أم سلمة زوج النبي