صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
124. - باب معاشرة الزوجين - ذكر تعظيم الله جل وعلا حق الزوج على زوجته
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے شوہر کے حق کو اس کی بیوی پر عظیم قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 4162
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الأَنْصَارِ، فَإِذَا فِيهِ جَمَلانِ يَضْرِبَانِ وَيَرْعَدَانِ فَاقْتَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا، فَوَضَعَا جِرَانَهُمَا بِالأَرْضِ، فَقَالَ مَنْ مَعَهُ: سَجَدَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ، وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ يَنْبَغِي أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِمَا عَظَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا مِنْ حَقِّهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں دو اونٹوں کی پٹائی ہو رہی تھی اور انہیں جھڑکا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے قریب ہوئے تو انہوں نے اپنی گردنیں زمین پر رکھ دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صاحب تھے انہوں نے عرض کی: انہوں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بھی شخص کیلئے یہ مناسب نہیں ہے وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے اگر کسی کیلئے کسی کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کے حق کو عظیم قرار دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4150»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (1998).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح إسناده حسن
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي