صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر البيان بأن خير الرقاب وأفضلها ما كان ثمنها أعلى-
- سب سے افضل غلام وہ ہے جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو
حدیث نمبر: 4310
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الإِِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ". قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا". قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ". قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِِنْ ضَعُفْتُ؟ قَالَ:" تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! کون سی گردن زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں یہ نہ کروں (یعنی اگر میں یہ نہ کر سکوں تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کمزور کی مدد کرو، معذور کے لیے کام کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، کیونکہ یہ تمہاری طرف سے تمہاری ذات کے لیے صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2518، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 84، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 152، 4310، 4596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3129، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21726»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه هام!! هذا الحديث لم أجده في «طبعة باوزير» في هذا الموضع ولكنه موجود من رواية: عبد الله بن محمد الأزدي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبدة بن سليمان، وأبو معاوية، قالا: حدثنا هشام بن عروة .. به. برقم (4577) الموافق لـ (4596) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4310 in Urdu
سعد الغفاري ← أبو ذر الغفاري