صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
162. باب حق الوالدين - ذكر الإخبار عن إيثار المرء أمه بالبر على أبيه
والدین کے حقوق کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ بندہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو باپ پر ترجیح دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أَبُوكَ"، قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ لِلأُمِّ ثُلُثَيِ الْبِرِّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ، اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا والد۔ راوی کہتے ہیں: علماء اس بات کے قائل ہیں: دو تہائی اچھا سلوک والدہ کے ساتھ کیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 434»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون قوله: «فترون ... » - «الضعيفة» (4992)، وانظر الذي بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين غير إبراهيم بن بشار الرمادي، وهو حافظ روى له أبو داود والترمذي، وقد توبع. سفيان: هو ابن عيينة، وأبو زرعة: هو ابن عمرو بن جرير البجلي.
الرواة الحديث:
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي