صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما أومأنا إليه-
- ذکر دوسری خبر جو ہمارے اشارہ کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 4374
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ قُرَيْشٍ إِِلا حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ، وَإِِنِّي كُنْتُ نَقَضَتْهُ" . قَالَ: وَالْمُطَيِّبُونَ: هَاشِمٌ، وَأُمَيَّةُ، وَزَهْرَةُ، وَمَخْزُومٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مَنْ يُرِيدُ بِهِ: شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَشْهَدْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، لأَنَّ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ كَانَ قَبْلَ مَوْلِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِِنَّمَا شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْفَ الْفُضُولِ، وَهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ، قَدْ ذَكَرْتُ الْكَلامَ عَلَى هَذَا الْخَبَرِ بِتَفْصِيلٍ فِي كِتَابِ: التَّوْرِيثُ وَالْحُجُبِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں قریش کے کسی بھی حلف میں شریک نہیں ہوا صرف ”مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا اور میری یہ خواہش نہیں ہے میں اس حلف کو توڑوں خواہ اس کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) ”مطیبین“ سے مراد بنوہاشم بنوامیہ بنوزہرہ اور بنومخزوم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دونوں روایات میں یہ بات مذکور ہے، میں ”مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”مطیبین“ کے حلف میں شریک نہیں ہوئے تھے کیونکہ ”مطیبین“ کا حلف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے اور یہ بھی ”مطیبین“ کے درمیان ہوا تھا میں نے اس روایت کے بارے میں اپنی کتاب ”التوريث والحجب“ میں تفصیل سے بحث ذکر کر دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4374]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4359»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح دون قوله: «والمطيبون هاشم ... » - «الصحيحة» (1900).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديثه يقرب من الحسن
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي