صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب الزنى وحده - ذكر خبر قد أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن خبر الأعمش منقطع غير متصل-
زنا اور اس کی حد کا بیان - ذکر اس خبر کا جو غیر ماہر عالم کو یہ وہم دلا سکتا ہے کہ اعمش کی خبر منقطع اور غیر متصل ہے
حدیث نمبر: 4415
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: إِِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٌ، وَوَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَلَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ أَبُو وَائِلٍ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، حَتَّى يَكُونَ الطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَيْنِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو جبکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ میں نے عرض کی: بے شک یہ بہت بڑا ہے، پھر (اس کے بعد) کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے کے تحت قتل کر دو، کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔“ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ابوشہاب نے اعمش کے حوالے سے، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ وکیع نے یہ روایت اعمش، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ شعبہ نے یہ روایت احدب، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ منصور نے یہ روایت ابووائل، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ جریر نے یہ روایت اعمش، ابووائل، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری نے یہ روایت اعمش، منصور، واصل کے حوالے سے، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابووائل نے یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو اور عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو، تو یوں اس کے دونوں طرق محفوظ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4477، 4761، 6001، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 86، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4414، 4415، 4416، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4024، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3182، 3182 م، 3183، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15922، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3682» «رقم طبعة با وزير 4398»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2000): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4415 in Urdu
عمرو بن شرحبيل الهمداني ← عبد الله بن مسعود