صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
180. باب صلة الرحم وقطعها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الدراوردي
صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف دراوردی نے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 451
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ، وَيَقْطَعُونِي، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، لَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظُهَيْرٌ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر صورتِ حال ویسی ہی ہے جیسی تم بیان کر رہے ہو، تو گویا کہ تم ان پر «الْمَلَّ» ”راکھ“ چھڑکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی مدد تمہاری شاملِ حال رہے گی، جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8107، 9467، 10427، والبزار فى (مسنده) برقم: 8323، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 944، 2786» «رقم طبعة با وزير 452»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، بندار هو محمد بن بشار، ومحمد هو ابن جعفر غندر.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 451 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي