صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
56. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يغضي عن هفوات ذوي الهيئات-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ معزز و باوقار لوگوں کی معمولی لغزشوں سے چشم پوشی کرے
حدیث نمبر: 4536
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" أَصَبْتُ شَارِفًا فِي مَغْنَمِ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا، فَأَنَخْتُهُمَا عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِِذْخِرًا أَبِيعَهُ أَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَمَعِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي الْبَيْتِ، وَمَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، فَقَالَتْ: أَلا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِِلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَقُلْتُ: السِّنَامُ، فَقَالَ: ذَهَبَ بِهِ كُلِّهِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدُ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى رَأْسِ حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: أَلَسْتُمْ عَبِيدَ آبَائِي؟ قَالَ: فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ" .
امام زین العابدین رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں مجھے ایک اونٹنی ملی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹنی بھی عطا کر دی، میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس باندھ دیا، میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (نامی گھاس) لاد کر لاؤں گا، پھر اسے فروخت کروں گا اور اس کے ذریعے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے ولیمے کی تیاری کروں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک آدمی بھی تھا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں موجود تھے، وہاں ایک کنیز گانا گا رہی تھی، وہ یہ گا رہی تھی: اے حمزہ! عمدہ قسم کی اونٹنیوں (پر حملہ کر دو)؛ تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ذریعے ان دونوں پر حملہ کر کے ان کی کوہانیں کاٹ دیں، ان کے پہلو چھیل دیے اور ان کے کلیجے نکال لیے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کوہان کا کیا بنا؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ تو ساری ختم کر دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ سب دیکھا تو مجھے بڑا دکھ ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں بھی ان کے ساتھ چلتا ہوا آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے ہوئے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ناراضی کا اظہار کیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے سر اٹھایا اور بولے: کیا تم سب لوگ میرے باپ دادا کے غلام نہیں ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4536]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2089، 2375، 3091، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1979، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4536، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11971، 13079، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1216» «رقم طبعة با وزير 4519»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (2643).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4536 in Urdu
الحسين بن علي السبط ← علي بن أبي طالب الهاشمي