🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام إذا عزم على إمضاء أمر من الأمور فأشار عليه من يثق به من رعيته بضده أن يترك ما عزم عليه من إمضاء ذلك الأمر-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے اور اس کی قابلِ اعتماد رعایا میں سے کوئی اس کے برعکس مشورہ دے تو وہ اپنا فیصلہ بدل دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فِي نَفَرٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا، وَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أُتْبِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ لَهُ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا، فَإِِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ مِنْ خَارِجِهِ، وَالرَّبِيعُ: الْجَدْوَلُ، فَاحْتَفَزْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَبُو هُرَيْرَةَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ؟" قُلْتُ: قُمْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا، وَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلاءِ النَّاسُ وَرَائِي، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، وَقَالَ: " اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ". كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي بِهِمَا فَمَنْ لَقِيتُ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ خَرَرْتُ لاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْهَشْتُ بِالْبُكَاءِ، وَأَدْرَكَنِي عُمَرُ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟" قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَنِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ: مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ يُبَشِّرُهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلا تَفْعَلْ، فَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَخَلِّهِمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم چھ افراد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک نہ دیا گیا ہو (یعنی کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا ہو) ہم گھبرا گئے سب سے پہلے میں گھبرا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا یہاں تک کہ میں بنو نجار سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کے باغ کے پاس آیا میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کیا مجھے اس کے اندر جانے کا دروازہ ملتا ہے تو وہاں ایک درخت کی شاخ باغ کی دیوار میں سے اندر جا رہی تھی۔ (راوی کہتے ہیں:) ربعی جدول کو کہتے ہیں۔ میں نے اسے ہٹایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم ابوہریرہ ہو؟ میں نے میں جواب دیا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائے تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک نہ لیا گیا ہو، تو ہم گھبرا گئے سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ میں آ گیا میں اس میں یوں داخل ہوا ہوں جس طرح لومڑی داخل ہوتی ہے لوگ میرے پیچھے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! آپ نے اپنے نعلین مجھے عطا کیے اور آپ نے فرمایا: میرے یہ نعلین لے کر جاؤ اور اس سے باغ سے باہر تمہیں جو بھی ایسا شخص ملتا ہے جو دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سب سے پہلے میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! نعلین کس کے ہیں؟ میں نے جواب دیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ نشانی کے طور پر مجھے دیئے ہیں) اور مجھے ان کے ہمراہ بھیجا ہے اس باغ کے باہر مجھے جو بھی ایسا شخص ملتا ہے جو یقین قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو میں اسے جنت کی خوشخبری دے دوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا تو میں الٹا ہو کر پیچھے گر گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! واپس جاؤ۔ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا؟ میں نے عرض کی: اور میں رو رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ابوہریرہ کیا ہوا میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے انہیں اس پیغام کے بارے میں بتایا جس کے ہمراہ آپ نے مجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا کہ میں الٹا ہو کر گر گیا انہوں نے کہا: تم واپس جاؤ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر اتم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین شریفین کے ہمراہ یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ ان کی ملاقات جس بھی ایسے شخص سے ہو جو یقین قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اسے جنت کی بشارت دیدے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ایسا نہ کیجئے کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے اس صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عمل کرنے دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں کرنے دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4543]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4526»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر مسلم» (12).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥يزيد بن عبد الرحمن السحيمي، أبو كثير
Newيزيد بن عبد الرحمن السحيمي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← يزيد بن عبد الرحمن السحيمي
صدوق يغلط
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عمر بن يونس الحنفي
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون