صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
89. باب طاعة الأئمة - ذكر وصف الضلالة التي كان يتخوفها صلى الله عليه وسلم على أمته-
ائمہ کی اطاعت کا بیان - اس گمراہی کی کیفیت کا بیان جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے خوفزدہ تھے
حدیث نمبر: 4572
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَحَاجِبُ بْنُ أَرِّكِينَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: " هَذَا أَوَانُ رَفْعِ الْعِلْمُ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ زِيَادٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنْ كُنْتُ لأَحْسِبُكَ أَفْقَهَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ" . قَالَ: فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ، وَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلا أُخْبِرُكُ بِأَوَّلِ ذَلِكَ يُرْفَعُ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: الْخُشُوعُ حَتَّى لا تَرَى خَاشِعًا.
سیدنا عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب علم کو اٹھا لیا جائے گا انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام لبید بن زیاد تھا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا جبکہ اسے ثابت کیا جا چکا ہے اور دلوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تو تمہیں اہل مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھدار شخص سمجھتا ہوں (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں کے پاس اللہ کی کتاب ہونے کے باوجود ان کے گمراہ ہونے کا ذکر کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا ہے پھر انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ سب سے پہلے کون سے علم کو اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: پرہیزگاری کو، یہاں تک کہ تم کسی بھی پرہیزگار شخص کو نہیں دیکھو گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4553»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 187)، «اقتضاء العلم العمل» (رقم 89).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
جبير بن نفير الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي