🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
158. باب فضل النفقة في سبيل الله - ذكر منافسة خزنة الجنان على المنفق في سبيل الله زوجين من ماله ليكون دخوله من الباب الذي من ناحيته-
باب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص اپنے مال کے دو جوڑے اللہ کی راہ میں خرچ کرے، جنت کے دربان اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4642
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعَهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ مَعِي مِنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابٍ؟ قَالُوا: لا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابٍ؟ قَالُوا: لا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، فَيُلْقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ: " أَيْ فُلُ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِِبِلَ وَأَتْرُكُكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ"، قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ:" فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ؟" قَالَ: لا يَا رَبِّ، قَالَ:" فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي". قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِي، فَيَقُولُ:" أَلَمْ أُكْرِمْكَ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِِبِلَ وَأَتْرُكَكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ"، قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ:" فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ؟" قَالَ: لا يَا رَبِّ، قَالَ:" فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي". قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ:" مَا أَنْتَ؟" فَيَقُولُ: أَنَا عَبْدُكَ، آمَنْتُ بِكَ وَبِنَبِيِّكَ وَبِكِتَابِكَ، وَصُمْتُ، وَصَلَّيْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَفَلا نَبْعَثَ عَلَيْكَ شَاهِدَنَا؟ قَالَ: فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنِ الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخْذِهِ: انْطِقِي، قَالَ: فَتَنْطِقُ فَخْذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ، فَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الَّذِي سَخَطَ اللَّهُ عَلَيْهِ. قَالَ: ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: أَلا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالَ: فَيَتْبَعُ أَوْلِيَاءُ الشَّيَاطِينَ الشَّيَاطِينَ، قَالَ: وَاتَّبَعَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَهُمْ إِِلَى جَهَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ يَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ، ثُمَّ نَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ، فَيَأْتِينَا رَبُّنَا وَهُوَ رَبُّنَا، فَيَقُولُ:" عَلَى مَا هَؤُلاءِ قِيَامٌ؟" فَيَقُولُونَ: نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنُونَ، وعَبَدْنَاهُ وَهُوَ رَبُّنَا وَهُوَ آتِينَا، وَمُثِيبُنَا، وَهَذَا مَقَامُنَا، قَالَ: فَيَقُولُ:" أَنَا رَبُّكُمْ فَامْضُوا"، قَالَ: فَيُوضَعُ الْجِسْرُ وَعَلَيْهِ كَلالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ، اللَّهُمَّ سَلِّمِ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ، فَإِِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ، فَيُقَالُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ ذَلِكَ لِعَبْدٍ لا تَوَى عَلَيْهِ يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ . قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: أَمْلاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِِمْلاءً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات میں، جس میں بادل نہ ہوں، چاند کو دیکھنے میں کچھ مشکل پیش آتی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جب کوئی بادل نہ ہو، سورج کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں اسی طرح کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی جس طرح تمہیں ان دونوں کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہے۔ بندے کو (پروردگار کی بارگاہ میں) پیش کیا جائے گا تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی تھی؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی تھی؟ میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں ہر طرح کی نعمتیں عطا نہیں کی تھیں؟ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں، میرے پروردگار! (ایسا ہی ہوا تھا)۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: آج میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر دوسرے شخص کو پیش کیا جائے گا، پروردگار فرمائے گا: کیا میں نے تمہیں عزت نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی تھی؟ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں کشادگی اور فراخی عطا نہیں کی تھی؟ وہ بندہ جواب دے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار دریافت کرے گا: کیا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے؟ بندہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر تیسرے شخص کو پیش کیا جائے گا تو پروردگار دریافت کرے گا: تم کون ہو؟ وہ جواب دے گا: میں تیرا بندہ ہوں، میں تجھ پر ایمان لایا، تیرے نبی پر، تیری کتابوں پر ایمان لایا، میں نے روزے رکھے، میں نے نماز پڑھی، میں نے صدقہ کیا، وہ جہاں تک ہو سکے گا بھلائی کا تذکرہ کرے گا۔ اس شخص سے کہا جائے گا: کیا ہم نے تم پر گواہ کو نہیں بھیجا تھا؟ وہ شخص ذہن میں سوچے گا کہ اس کے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، اس کے زانو سے کہا جائے گا: تم کلام کرو! تو اس کا زانو، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس چیز کے بارے میں کلام کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا، یہ منافق شخص ہو گا، اس کی وجہ یہ ہو گی تاکہ وہ شخص اپنی طرف سے کوئی عذر نہ پیش کر سکے اور تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراضگی کا اظہار کر سکے۔ پھر ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا: ہر گروہ اس کے پیچھے چلا جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔ تو شیاطین کے ماننے والے شیاطین کے پیچھے چلے جائیں گے۔ یہودی اور عیسائی اپنے بڑوں کے ہمراہ جہنم کی طرف چلے جائیں گے۔ پھر مومن باقی رہ جائیں گے، اے اہل ایمان! پھر ہم باقی رہ جائیں گے، ہمارا پروردگار ہمارے پاس تشریف لائے گا، وہ ہمارا پروردگار ہی ہو گا، وہ فرمائے گا: تم کس کے لیے کھڑے ہوئے ہو؟ تو وہ بندے عرض کریں گے: ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندے ہیں، ہم اس کی عبادت کرتے ہیں، وہ ہمارا پروردگار ہے، وہ ہمارے پاس آئے گا اور ہمیں ثواب عطا کرے گا، ہم تو اسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ تو پروردگار کہے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ پھر پل صراط کو رکھا جائے گا جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک لیں گے، اس مقام پر شفاعت کی اجازت دی جائے گی (اور میں یہ دعا کروں گا) «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» اے اللہ! سلامت رکھنا، اے اللہ! سلامت رکھنا۔ جب آدمی اس پل کو پار کر لے گا تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں دیا ہو گا، تو جنت کے دربان اسے بلائیں گے: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ بھلائی ہے، تو اسے کہا جائے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ بھلائی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر وہ کوئی ایک دروازے کو چھوڑ دے اور دوسرے دروازے سے داخل ہو جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ امید ہے تم بھی ان لوگوں میں سے ایک ہو گے۔ عبدالجبار نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سفیان نامی راوی نے یہ روایت مجھے املا کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1897، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1027، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1700، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 308، 3418، 3419، 4641، 4642، 6866، 7445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2237، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7748، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1212» «رقم طبعة با وزير 4623»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (178): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥روح بن القاسم التميمي، أبو غياث
Newروح بن القاسم التميمي ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← روح بن القاسم التميمي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عبد الجبار بن العلاء العطار
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 4642 in Urdu