صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
366. باب الغلول - ذكر نفي دخول الجنان عن الشهيد في سبيل الله إذا كان قد غل وإن كان ذلك الغلول شيئا يسيرا-
الغلول کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر شہید نے غلول کیا تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا حتیٰ کہ وہ غلول چھوٹا ہی کیوں نہ ہو
حدیث نمبر: 4851
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا فِضَّةً إِلا الأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ، فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ وَادِي الْقُرَى، وَكَانَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ: مِدْعَمٌ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا"، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ، أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَسْلَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِدَوْسٍ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ نَحْوَ خَيْبَرَ وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيُّ، اسْتَخْلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى أَبُو هُرَيْرَةَ مَعَ سِبَاعٍ وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ سورة المطففين آية 1، ثُمَّ لَحِقَ بِالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَشَهِدَ خَيْبَرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمیں مال غنیمت میں سونا یا چاندی حاصل نہیں ہوا صرف زمینیں اور کپڑے ملے اور ساز و سامان ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سیاہ فام غلام تحفے کے طور پر دیا جس کا نام مدعم تھا ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ سے سامان اتار رہا تھا۔ اسی دوران ایک اندھا تیر آیا اسے لگا اور وہ مر گیا تو لوگوں نے اسے جنت کی مبارکباد دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر اس نے جو چادر مال غنیمت میں سے حاصل کر لی تھی جو تقسیم تک نہیں پہنچی تھی وہ آگ کی بن کر اس پر جل رہی ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تسمہ آگ سے بنا ہوا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ دو تسمے آگ سے بنے ہوئے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوس قبیلے میں اسلام قبول کر لیا تھا پھر جب وہ مدینہ منورہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نائب مقرر کیا تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سباع رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نے ویل للمطففین کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ پھر وہ خیبر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے اور غزوہ خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4851]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4831»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2428): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سالم العدوي ← أبو هريرة الدوسي