صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
32. باب التسعير والاحتكار - ذكر ما يستحب للإمام ترك التسعير للناس في بياعاتهم-
نرخ بندی اور احتکار کا بیان - بیان کہ امام کے لیے پسندیدہ ہے کہ لوگوں کی خرید و فروخت میں نرخ مقرر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 4935
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: غَلا السِّعْرُ عَلَى عَهْد ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا سِعْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ لا أَلْقَى اللَّهَ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهَا أَحَدًا مِنْكُمْ فِي أَهْلٍ وَلا مَالٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب ہمارے لئے قیمتیں متعین کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے وہ تنگی (کا شکار) کرنے والا ہے کشادگی عطا کرنے والا ہے رزق عطا کرنے والا ہے مجھے یہ امید ہے جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا تو میں نے تم میں سے کسی کے ساتھ بھی (اس کے) اہل خانہ یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4935]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4914»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (323)، «الروض» (405) «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري