پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
51. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن منع فضل الماء قصد الضرر فيه على المسلمين-
ممنوعہ بیوع کا بیان - مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے اضافی پانی روکنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ الْمَاءَ الَّذِي لا يَقَعُ فِيهِ الْحَوْزُ وَلا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ مَا دَامَ مَشَاعًا مِثْلَ الْمِيَاهِ الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرِكَةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ الْمَاءُ الَّذِي يَكُونُ لِلْمَرْءِ فِي الْبَادِيَةِ مِنْ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَيَنْتَفِعُ بِهِ، وَيَمْنَعُ النَّاسَ مَا فَضَلَ عَنْهُ، فَنُهِيَ عَنْ مَنْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا فَضَلَ مِنْ مَائِهِ بَعْدَ قَضَاءِ حَاجَتِهِ عَنْهُ، لأَنَّ فِي مَنْعِهِ ذَلِكَ مَنْعَ النَّاسِ عَنِ الْكَلإِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اضافی پانی سے منع نہ کیا جائے ورنہ اس کے نتیجے میں گھاس اگنا بند ہو جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں حوز واقع نہ ہو۔ (یعنی اس کے اردگرد چار دیواری کھڑی نہ ہو) کوئی ایک شخص اس کا مالک نہ ہو اور وہ لوگوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہو، جو بہتے ہوئے پانی کی مانند ہو جو مشترک ہوتا ہے اور اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے، اس سے مراد وہ پانی ہو جو جنگل میں کنویں کا یا چشمے کا پانی ہوتا ہے اور اس کے ذریعے نفع حاصل کیا جاتا ہے تو آدمی اضافی پانی کے استعمال سے لوگوں کو منع کر دے۔ اور اس بات سے منع کیا گیا ہے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد مسلمانوں کو اضافی پانی استعمال کرنے سے روک دیا جائے کیونکہ اس سے روکنے کے نتیجے میں لوگوں کو گھاس ملنے سے روکنا بھی لازم آئے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2353، 2354، 6962، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1566، وابن الجارود فى "المنتقى"، 649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4954، 4956، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3473، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1272، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2478، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11177، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7442» «رقم طبعة با وزير 4933»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (4261)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4954 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي