علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
135. باب الفلس - ذكر خبر ثالث يصرح بأن المشتري إذا أفلس تكون عين سلعة البائع له دون أن يكون أسوة الغرماء-
دیوالیہ کے احکام کا بیان - تیسری حدیث کا ذکر جو صراحت کرتی ہے کہ اگر خریدار مفلس ہو جائے تو بائع اپنی چیز واپس لینے کا حقدار ہے اور وہ قرض خواہوں میں شریک نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 5039
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْدِمَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَ الْبَائِعُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص دیوالیہ ہو جائے اور فروخت کرنے والا اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5039]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5039، والبزار فى (مسنده) برقم: 5885» «رقم طبعة با وزير 5017»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5039 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي