الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. ذكر الخبر الدال على إباحة أخذ الأجرة على سكنى بيوت مكة-
- یہ خبر جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مکہ کے گھروں کے کرایے پر لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5149
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" انْزِلْ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟" وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، يَقُولُ: لا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ مکہ میں اپنے گھر میں پڑاؤ کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی رہائشی جگہ چھوڑی ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل اور جناب طالب جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں بنے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں صاحبان مسلمان تھے جب کہ جناب عقیل اور جناب طالب کفر کے عالم میں فوت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: کوئی مومن کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5127»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1754 و 2585): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عمرو بن عثمان الأموي ← أسامة بن زيد الكلبي