الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. باب آداب الأكل - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ بیان کہ اس عمل سے منع کیوں کیا گیا
حدیث نمبر: 5233
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، " فَبَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرِ عَجْوَةٍ، فَكُبَّتْ بَيْنَنَا، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ الثِّنْتَيْنِ مِنَ الْجُوعِ، وَجَعَلَ أَصْحَابُنَا إِذَا قَرَنَ أَحَدُهُمْ، قَالَ لِصَاحِبِهِ: إِنِّي قَدْ قَرَنْتُ، فَاقْرِنُوا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اصحاب صفہ میں شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عجوہ کھجوریں بھیجیں وہ ہمارے درمیان انڈیل دی گئی، تو ہم بھوک کی شدت کی وجہ سے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے لگے ہم میں سے کوئی ایک شخص جب دو کھجوریں ایک ساتھ کھاتا تو وہ اپنے ساتھی یہ کہہ دیتا کہ میں دو ایک ساتھ کھا رہا ہوں تو تم بھی دو دو ایک ساتھ کھاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5233]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5210»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← أبو هريرة الدوسي