صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
255. فصل من البر والإحسان - ذكر الإخبار عن خير الناس وشرهم لنفسه ولغيره
فصل نیکی اور احسان - بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں خبر دینے کا ذکر جو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فقَالَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ"؟ قَالَ: فَسَكَتُوا، قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فقَالَ رَجُلٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلا يُؤْمَنُ شَرُّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس رکے اور ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں تمہارے اچھے یا برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کچھ دیر خاموش رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ہمیں ہمارے برے اور اچھوں کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں، جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کی برائی سے محفوظ رہا جاتا ہے اور تم میں سے برے لوگ وہ ہیں، جن سے بھلائی کی امید نہیں کی جاتی اور جن کی برائی سے محفوظ نہیں رہا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 527، 528، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8934، 9042» «رقم طبعة با وزير 529»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر ما قبله.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 528 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي