صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
77. باب الضيافة - ذكر الأمر بإجابة الدعوة إذا دعي المرء إليها-
مہمان نوازی کا بیان - یہ حکم کہ دعوت پر بلاوے کا جواب دیا جائے
حدیث نمبر: 5290
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، كَانَ إِذَا دُعِيَ ذَهَبَ إِلَى الدَّاعِي، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا جَلَسَ، فَأَكَلَ، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ، فَأَجِيبُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب انہیں دعوت دی جاتی تھی، تو وہ دعوت میں چلے جاتے تھے۔ اگر انہوں نے روزہ رکھا ہوتا تھا تو برکت کی دعا کر کے واپس تشریف لے آتے تھے اور اگر روزہ نہیں ہوتا تھا، تو وہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہاری پائے (کھانے) کی دعوت کی جائے تو تم اسے قبول کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد - «الإرواء» (1947): ق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي