صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر البيان بأن أثر النعمة يجب أن ترى على المنعم عليه في نفسه ومواساته عما فضل إخوانه-
- اس باب میں بیان ہے کہ نعمت کا اثر انسان کی ذات میں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی میں ظاہر ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالاً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا زَادَ لَهُ" ، فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ، حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لا حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس اضافی بوجھ ہو اس کو دیدے جس کے پاس بوجھ نہ ہو اور جس شخص کے پاس اضافی زادراہ ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس زادراہ نہ ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی مختلف اصناف کا ذکر کیا یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم میں سے کسی کو بھی کوئی اضافی چیز رکھنے کا حق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5395»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1466): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري