صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ذكر ما يقول المرء عند كسوته ثوبا استجده-
- اس باب میں ذکر ہے کہ نیا لباس پہننے کے وقت انسان کو کیا کہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5420
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا الْقَمِيصَ، أَوِ الرِّدَاءَ، أَوِ الْعِمَامَةَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ بسم اللہ پڑھتے تھے اور یہ پڑھتے تھے: ”اے اللہ! تو نے مجھے یہ قمیص یا چادر یا عمامہ پہنایا۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5396»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «المشكاة» (4342)، «مختصر الشمائل» (47/ 50).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري