صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. ذكر الخبر الدال على أن الأضحية والأمر بها ليس بواجب-
- ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قربانی اور اس کا حکم واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 5914
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أبي أَيُّوبَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلا مَنِيحَةَ أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ:" لا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ عِنْدَ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قربانی کے دن کو عید قرار دوں، اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے (عید قرار دیا ہے)۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے اگر مجھے قربانی کرنے کے لیے صرف مونث جانور ملتا ہے تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں، تم اپنے بال کاٹ لو، ناخن کاٹ لو، زیرِ ناف بال صاف کر لو، اپنی مونچھیں چھوٹی کر لو؛ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہاری قربانی شمار ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5914]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 773، 5914، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3986، 7624، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4377، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4439، 7973، 10484، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1399، 2789، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6686» «رقم طبعة با وزير 5884»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (482).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5914 in Urdu
عيسى بن هلال الصدفي ← عبد الله بن عمرو السهمي