صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء في الفتن - ذكر الإخبار عما يجب على المرء أن يكون عليه في آخر الزمان-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر آخر زمانہ میں کیا ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 5951
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟" قَالَ: وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ذَاكَ إِذَا مَرَجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"، قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تم لوگوں کے چھان میں باقی رہ جاؤ گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ کون لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا اس وقت ہو گا جب ان کی امانات اور ان کے عہد ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے، اور وہ یوں ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے تم اچھائی سمجھو اسے تم کر لینا اور جسے تم برائی سمجھو اسے نہ کرنا اور تم صرف اپنی ذات کے لیے عمل کرنا اور لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5920/*»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (205 - 206).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي