صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب التوبة - ذكر تفضل الله جل وعلا على التائب المعاود لذنبه بمغفرة كلما تاب وعاد يغفر
توبہ کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ وہ توبہ کرنے والے کو جو اپنے گناہ کی طرف لوٹتا ہے، ہر بار جب وہ توبہ کرتا ہے تو معاف کرتا ہے
حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلا، قَالَ: " أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فقَالَ: أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ، فقَالَ: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَيَأْخُذُ بِالذُّنُوبِ، ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ، فقَالَ: أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ، فقَالَ: أَذْنَبَ عَبْدِي وَعَلِمَ أَنَّ رَبَّهُ يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ، اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ:" اعْمَلْ مَا شِئْتَ" لَفْظَةُ تَهْدِيدٍ أُعْقِبَتْ بِوَعْدٍ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ:" اعْمَلْ مَا شِئْتَ" أَيْ: لا تَعْصِ وَقَوْلُهُ:" قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" يُرِيدُ: إِذَا تُبْتَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان کے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرا بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا اور وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور گناہوں پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔ پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے اور وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور گناہوں پہ گرفت بھی کر سکتا ہے۔ (اے میرے بندے!) تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ: ”تم جو چاہو عمل کرو۔“ یہ تہدید کے الفاظ ہیں جس کے عقب میں وعدہ ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے مراد: ”تم جو چاہو عمل کرو۔“ اس سے مراد یہ ہے: تم نافرمانی نہ کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے“ اس سے مراد یہ ہے، جب تم توبہ کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2758، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 622، 625، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7703، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20821، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8063» «رقم طبعة با وزير 624»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم (621). تنبيه!! رقم (621) = (622) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 625 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي