الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
134. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر وصف كيفية خروج المصطفى صلى الله عليه وسلم من مكة لما صعب الأمر على المسلمين بها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے کیسے نکلے جب حالات مسلمانوں پر سخت ہوگئے
حدیث نمبر: 6277
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِِلا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، لَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِِلا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَلَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ سَيِّدُ الْقَارَةِ، فَقَالَ: أَيْنَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَسِيحُ فِي الأَرْضِ، وَأَعْبُدُ رَبِّي، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ: إِِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لا يَخْرُجُ، وَلا يُخْرَجُ، إِِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُمْ وَطَافَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، لا يَخْرُجُ، وَلا يُخْرَجُ مِثْلُهُ، إِِنَّهُ يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ، وَقَالُوا لابْنِ الدَّغِنَةِ: مُرْ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَيُصَلِّيَ مَا شَاءَ، وَيَقْرَأَ مَا شَاءَ، وَلا يُؤْذِينَا، وَلا يَسْتَعْلِنْ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ، فَفَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ، فَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلا بَكَّاءً لا يَمْلِكُ دَمْعَهُ إِِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأَرْسَلُوا إِِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: إِِنَّمَا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِِنَّهُ ابْتَنَى مَسْجِدًا، وَإِِنَّهُ أَعْلَنَ الصَّلاةَ وَالْقِرَاءَةَ، وَإِِنَّا خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَأْتِهِ، فَقُلْ لَهُ: أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِِنْ أَبَى إِِلا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ، فَلْيَرُدَّ عَلَيْنَا ذِمَّتَكَ، فَإِِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نُخْفِرَ ذِمَّتَكَ، وَلَسْنَا بِمُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ الاسْتِعْلانَ، فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ، فَإِِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِِمَّا أَنْ تُرْجِعَ إِِلَيَّ ذِمَّتِي، فَإِِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِِنِّي أَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَجِوَارِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبَخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لابَتَيْنِ، وَهُمَا حَرَّتَانِ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَرَجَعَ إِِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤَذَنَ لِي، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَفْسَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَحَابَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِِذْ قَائِلٌ يَقُولُ لأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًى لَهُ أَبِي وَأُمِّي، إِِنْ جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةُ لأَمْرٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ، قَالَ: فَنَعَمْ، قَالَ: قَدْ أُذِنَ لِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخُذْ إِِحْدَى رَاحِلَتِي هَاتَيْنِ، فَقَالَ: نَعَمْ، بِالثَّمَنِ، قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ مِنْ نِطَاقِهَا، وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى: ذَاتَ النِّطَاقِ، فَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: ثَوْرٌ، فَمَكَثْنَا فِيهِ ثَلاثَ لَيَالٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو مسلمان دیکھا روزانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں صبح و شام تشریف لایا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں کو آزمائش کا شکار کیا جانے لگا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ ان کی ملاقات قارہ قبیلے کے سردار ابن دغنہ سے ہوئی۔ اس نے دریافت کیا: اے ابوبکر کہاں جا رہے ہو۔ انہوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ ابن دغنہ نے ان سے کہا: اے ابوبکر آپ جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ آپ ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں پھر ابن دغنہ وہاں سے سوار ہو کر آئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ واپس آ گئے۔ وہ کفار قریش کے پاس گیا اور اس نے ان سے کہا: ابوبکر جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ اس جیسے شخص کو نکالا جا سکتا ہے۔ وہ ضرورت مند کی مدد کرتا ہے ان کا خیال رکھتا ہے، دوسروں کا وزن اٹھاتا ہے۔ مہمان نوازی کرتا ہے، حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے، تو قریش نے ابن دغنہ کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر کو امان دیدی۔ انہوں نے ابن دغنہ سے کہا: کہ وہ ابوبکر سے کہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے اور وہاں جتنی چاہے نماز ادا کرے اور جتنی چاہے تلاوت کرے، لیکن ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ وہ اعلانیہ طور پر اپنے گھر سے باہر نماز ادا نہ کرے اور تلاوت نہ کرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسا ہی کرتے رہے، پھر ان کو مناسب لگا، تو انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی۔ وہاں وہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو مشرکین کی خواتین اور بچے وہاں آ جاتے اور حیران ہوتے تھے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رویا کرتے تھے جب قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کی آنکھوں پر ق ابونہیں رہتا تھا۔ قریش نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئے۔ قریش نے کہا: ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے گا۔ اب اس نے مسجد بنا لی ہے اور وہ اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے۔ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے نوجوان بچوں کو آزمائش کا شکار کر دے گا تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفاء کرے۔ اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ تمہاری دی ہوئی پناہ واپس کر دے کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔
ابن دغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں ایک بات کا ذمہ لیا تھا، یا تو آپ اس پر اکتفاء کریں یا پھر میری دی ہوئی پناہ مجھے واپس کر دیں کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دینے کے بعد اس سے واپس لے لی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ سے راضی ہوں۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا تمہارا ہجرت کا مقام مجھے (خواب میں) دکھایا گیا ہے۔ مجھے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک شور والی زمین ہے جس میں کھجوروں کے باغات بہت ہیں اور اس کے دونوں کناروں پر پتھریلی زمین ہے۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ کیا تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور حبشہ کی سرزمین کی طرف جن لوگوں نے ہجرت کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مدینہ آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لئے ساز و سامان تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر ابھی انتظار کرو مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی اس کی اجازت مل جائے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا آپ کو یہ امید ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لئے خود کو روک لیا۔ وہ اپنی دو اونٹنیوں کو چارہ کھلاتے رہے۔ وہ انہیں ببول کے پتے کھلایا کرتے تھے۔ ایسا چار ماہ تک ہوتا رہا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر تشریف لائے تھے اور یہ ایک ایسا وقت تھا جس میں آپ عام طور پر ہمارے ہاں نہیں آتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس وقت میں تشریف لائے ہیں تو ضرور کسی اہم کام کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوبکر اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! صرف میرے اہل خانہ ہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر آپ نے بتایا مجھے اجازت دیدی گئی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے والد آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا میں ساتھ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے والد آپ پر قربان ہوں آپ ان دونوں میں سے ایک اونٹنی لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن یہ قیمت کے عوض میں ہو گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے ان دونوں کے لئے بہترین زاد راہ تیار کیا۔ ہم نے ان دونوں کے لئے چمڑے کے کھانے کا تھیلا تیار کیا۔ سیدہ اسماء نے اپنے ازار بند کو کاٹ کر اس کے ذریعے اس تھیلے کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے ان کا نام ذات نطاق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر موجود غار تک پہنچ گئے۔ جس کا نام ثور تھا۔ آپ تین دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6277]
ابن دغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں ایک بات کا ذمہ لیا تھا، یا تو آپ اس پر اکتفاء کریں یا پھر میری دی ہوئی پناہ مجھے واپس کر دیں کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دینے کے بعد اس سے واپس لے لی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ سے راضی ہوں۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا تمہارا ہجرت کا مقام مجھے (خواب میں) دکھایا گیا ہے۔ مجھے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک شور والی زمین ہے جس میں کھجوروں کے باغات بہت ہیں اور اس کے دونوں کناروں پر پتھریلی زمین ہے۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ کیا تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور حبشہ کی سرزمین کی طرف جن لوگوں نے ہجرت کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مدینہ آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لئے ساز و سامان تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر ابھی انتظار کرو مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی اس کی اجازت مل جائے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا آپ کو یہ امید ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لئے خود کو روک لیا۔ وہ اپنی دو اونٹنیوں کو چارہ کھلاتے رہے۔ وہ انہیں ببول کے پتے کھلایا کرتے تھے۔ ایسا چار ماہ تک ہوتا رہا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر تشریف لائے تھے اور یہ ایک ایسا وقت تھا جس میں آپ عام طور پر ہمارے ہاں نہیں آتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس وقت میں تشریف لائے ہیں تو ضرور کسی اہم کام کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوبکر اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! صرف میرے اہل خانہ ہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر آپ نے بتایا مجھے اجازت دیدی گئی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے والد آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا میں ساتھ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے والد آپ پر قربان ہوں آپ ان دونوں میں سے ایک اونٹنی لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن یہ قیمت کے عوض میں ہو گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے ان دونوں کے لئے بہترین زاد راہ تیار کیا۔ ہم نے ان دونوں کے لئے چمڑے کے کھانے کا تھیلا تیار کیا۔ سیدہ اسماء نے اپنے ازار بند کو کاٹ کر اس کے ذریعے اس تھیلے کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے ان کا نام ذات نطاق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر موجود غار تک پہنچ گئے۔ جس کا نام ثور تھا۔ آپ تین دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6277]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6244»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - «مختصر البخاري».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق