صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. باب الزجر عن كتبة المرء السنن مخافة أن يتكل عليها دون الحفظ لها-
- اس ممانعت کا بیان کہ کوئی شخص صرف لکھنے پر اکتفا نہ کرے تاکہ وہ سنن کو یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 64
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُمَامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: زَجْرُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكِتْبَةِ عَنْهُ سِوَى الْقُرْآنِ، أَرَادَ بِهِ الْحَثَّ عَلَى حِفْظِ السُّنَنِ دُونَ الاتِّكَالِ عَلَى كِتْبَتِهَا وَتَرْكِ حِفْظِهَا وَالتَّفَقُّهِ فِيهَا، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا إِبَاحَتُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي شَاهٍ كَتْبَ الْخُطْبَةِ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذْنُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِالْكِتْبَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو، وہ اسے مٹا دے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غور و فکر نہ کریں۔
اس موقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوشاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا خطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی، جو خطبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی احادیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 64]
”میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو، وہ اسے مٹا دے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غور و فکر نہ کریں۔
اس موقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوشاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا خطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی، جو خطبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی احادیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 64]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق: م. * [كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ] قال الشيخ: تابعَهُ جمعٌ عن همَّام ... به: عند مسلم (8/ 229)، والنسائي في «الكبرى» (3/ 431 و 5/ 10 - 11)، والدارمي (1/ 119)، وأحمد (3/ 12 و21/ 39 و56)، وغيرهم. واستدركه الحاكمُ (1/ 126 - 127) على مسلم، فوهم! وخالفَ هماماً: عبد الرحمن بنُ زيدِ بن أسلم، فقال: عن أبيه، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرةَ، أخرجه البزَّار (194). وعبد الرحمن ضعيفٌ جداًّ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، كثير بن يحيى صاحب البصري، ذكره ابن حبان في "الثقات" 9/ 26، وباقي السند على شرطهما.
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري