صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
318. باب الحوض والشفاعة - ذكر تخيير الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بين الشفاعة وبين أن يدخل نصف أمته الجنة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت اور اپنی امت کا نصف جنت میں داخل کرنے کے درمیان انتخاب دیا
حدیث نمبر: 6470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَإِِذَا نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالا: مَا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، فَلَمْ نَلْبَثْ إِِلا يَسِيرًا حَتَّى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ:" فَإِِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي"، قَالَ: فَأَقْبَلْنَا إِِلَى النَّاسِ، فَإِِذَا هُمْ فَزِعُوا، وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّهُ أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" إِِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے چل پڑا، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بھی کھڑے نظر آئے، میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے جو چکی کے چلنے جیسی آواز ہے۔ راوی کہتے ہیں، تھوڑی ہی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا، یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر میں شفاعت کروں (خواہ وہ کتنے ہی لوگوں کی کیوں نہ ہو) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اور اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کریں، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں میں شامل ہو جن کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لوگ لوگوں کی طرف آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس اس رات (میرے پروردگار کا) قاصد آیا، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا میں شفاعت کو اختیار کروں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔ لوگوں نے عرض کی: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کیجئے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں فوت ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6470]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6436»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (818)، وهو مطول (211)، وسيأتي (7163). تنبيه!! رقم (7163) = (7207) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← عوف بن مالك الأشجعي