صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
437. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف الخطبة التي خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر عمره حيث خرج ليعهد إلى الناس ما ذكرناه قبل-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وصف کہ خطبہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخر میں دیا جب وہ لوگوں کو ہمارے پہلے ذکر کردہ وصیت کے لیے نکلے
حدیث نمبر: 6593
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" إِِنِّي السَّاعَةَ قَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا، فَاخْتَارَ الآخِرَةَ"، فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلادِنَا، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اس بات کا اختیار دیا کہ اسے اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا اپنی بارگاہ میں حاضری عطا کر دے تو اس شخص نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کو اختیار کیا، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی: ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر تم خاموش رہو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے ساتھ اور مال کے اعتبار سے لوگوں میں میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک ابوبکر نے کیا۔ اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا، البتہ اسلام کا بھائی چارہ اور محبت تو ہے ہی، خبردار! مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دیا جائے۔ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ہے اور یہ صاحب (یعنی سیدنا ابوبکر) رو رہے ہیں۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ اختیار دیئے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور رونے والے شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6593]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ہے اور یہ صاحب (یعنی سیدنا ابوبکر) رو رہے ہیں۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ اختیار دیئے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور رونے والے شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6593]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6559»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3654)، م (7/ 108).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
سمعان الأسلمي ← أبو سعيد الخدري