صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
444. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر العلة التي من أجلها اغتسل صلى الله عليه وسلم في علته-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں غسل کیا
حدیث نمبر: 6600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، وَعُمْرَةُ ، أحدهما أو كلاهما، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ مِنْ نُحَاسٍ، فَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَى الْمَسْجِدِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجئے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے پھر ویسی ہی بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجئے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: تمہاری طرف سے مجھے کبھی کوئی بھلائی دیکھنے کو نہیں ملی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کے لئے نکلے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہہ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تم اپنی جگہ پر رہو تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6600]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کے لئے نکلے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہہ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تم اپنی جگہ پر رہو تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6600]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6566»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق