صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
572. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فرق البدع وأهلها في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں بدعات کے فرقے اور ان کے لوگ ظاہر ہوں گے
حدیث نمبر: 6731
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ الْيَهُودَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارَى عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، وَتَتَفَرَّقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اسی طرح ہوئے اور یہ قوم 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6731]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6247، 6731، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 10، 440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2640، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3991، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8512» «رقم طبعة با وزير 6696»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (203)، «الظلال» (66 و 67).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
صحیح ابن حبان کی حدیث نمبر 6731 کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
یہ روایت دو صحابہ سے مروی ہے، دونوں روایتیں ہی منکر (ضعیف) ہیں۔ عللِ حدیث کے ماہر ائمہ کی یہی تحقیق ہے۔
حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا
❀ قیس بن ابو حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ، بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا؛ نَبَحَتِ الْكِلَابُ، قَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا: بَلْ تَقْدَمِينَ، فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ، تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْابِ؟»
”جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور رات کے وقت بنو عامر کے پانی پر پہنچیں، تو ان پر کتے بھونکنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے استفسار فرمایا: یہ کون سا پانی ہے؟ بتایا گیا: یہ حواب کا کنواں ہے۔ فرمایا: میرے خیال میں مجھے یہیں سے واپس جانا چاہیے۔ آپ کے ساتھ لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: نہیں، آپ آگے تشریف لائیں تاکہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کرا دے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ازواجِ مطہرات کو) فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا، جب اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے!۔“
[مسند الإمام أحمد: 52/6، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 120/3، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6-411]
◈ اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6732] نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا حَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .»
”اس حدیث کی سند صحیح ہے۔“ [سیر أعلام النبلاء: 178/2]
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ .»
”یہ سند صحیح بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔“ [البداية والنهاية: 211/6-212]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سَنَدُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ .»
”اس کی سند صحیح بخاری کی شرط پر ہے۔“ [فتح الباري: 15/13]
◈ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
◈ علامہ ابن دحیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هُوَ أَشْهَرٌ مِّنْ فَلَقِ الصُّبْح .»
”یہ حدیث روشن صبح سے زیادہ مشہور ہے۔“ [مناهل الصفا: 748]
◈ [حياة الحيوان الكبرى للدميري: 286/1] میں یہ الفاظ بھی ہیں:
❀ «إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْابِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: «أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟» ، فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟ عَسَى اللَّه عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .»
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: جب وہ حواب کے مقام پر آئیں تو انہوں نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کہا: میرے خیال میں مجھے واپس ہی جانا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: آپ میں سے کون ہے، جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: کیا آپ واپس جائیں گی؟ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے مابین صلح کرا دے۔“
[مسند الإمام أحمد: 97/6، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔ یہ قیس بن ابی حازم کی منکر روایات میں سے ہے۔
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
«شَهِدَ الجَمَلَ قَالَ: لا .»
”کیا قیس بن ابی حازم جنگ جمل میں شریک تھے؟ فرمایا: نہیں۔“ [العلل، ص: 50]
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ يَحْيَى أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، مِنْهَا حَدِيثُ كِلَابِ الْحَوْأَبِ.»
”مجھے امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ نے بتایا کہ قیس بن ابو حازم منکر الحدیث ہے، پھر انہوں نے قیس کی کئی منکر احادیث بھی بیان کیں۔ حواب مقام کے کتوں والی حدیث بھی ان میں شامل تھی۔“
[تاريخ ابن عساكر: 464/49، وسنده صحيح]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ [المغنی: 526/2] کا اس حدیث کو ”ثابت“ قرار دینا متقدم امام کے مقابلہ میں قبول نہیں۔
------------------
حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
«قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِنِسَائِهِ: لَيْتَ شَعْرِي، أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ كِلابُ حَوْأَبٍ، فَيُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا، وعَن يَسَارِهَا قَتْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَ مَا كَادَتْ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات سے فرمایا: کاش! مجھے معلوم ہو کہ تم میں سے کون چہرے کے زیادہ بالوں والے اونٹ پر سوار ہوگی۔ حواب کے کتے نکلیں گے اور اس کے دائیں بائیں بہت زیادہ قتل و غارت ہو گی۔ پھر وہ بال بال بچ جائے گی۔“ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
◈ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«تُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَتْلَى كَثِيرةٌ.»
”اس کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگ قتل کیے جائیں گے۔“ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔
◈ امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رحمہما اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
◈ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
«لَا يُرْوى مِنْ طَرِيقِ غَيْرِه .»
”اس سند کے علاوہ اسے روایت نہیں کیا گیا۔“ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
➋ اس کی ایک ہی سند ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
مقام حواب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی حدیث ”منکر“ ہے۔ بعض لوگ اس منکر روایت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظمت کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ ان کی یہ روش سراسر غلط ہے۔
حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا
❀ قیس بن ابو حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ، بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا؛ نَبَحَتِ الْكِلَابُ، قَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا: بَلْ تَقْدَمِينَ، فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ، تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْابِ؟»
”جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور رات کے وقت بنو عامر کے پانی پر پہنچیں، تو ان پر کتے بھونکنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے استفسار فرمایا: یہ کون سا پانی ہے؟ بتایا گیا: یہ حواب کا کنواں ہے۔ فرمایا: میرے خیال میں مجھے یہیں سے واپس جانا چاہیے۔ آپ کے ساتھ لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: نہیں، آپ آگے تشریف لائیں تاکہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کرا دے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ازواجِ مطہرات کو) فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا، جب اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے!۔“
[مسند الإمام أحمد: 52/6، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 120/3، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6-411]
◈ اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6732] نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا حَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .»
”اس حدیث کی سند صحیح ہے۔“ [سیر أعلام النبلاء: 178/2]
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ .»
”یہ سند صحیح بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔“ [البداية والنهاية: 211/6-212]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سَنَدُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ .»
”اس کی سند صحیح بخاری کی شرط پر ہے۔“ [فتح الباري: 15/13]
◈ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
◈ علامہ ابن دحیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هُوَ أَشْهَرٌ مِّنْ فَلَقِ الصُّبْح .»
”یہ حدیث روشن صبح سے زیادہ مشہور ہے۔“ [مناهل الصفا: 748]
◈ [حياة الحيوان الكبرى للدميري: 286/1] میں یہ الفاظ بھی ہیں:
❀ «إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْابِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: «أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟» ، فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟ عَسَى اللَّه عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .»
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: جب وہ حواب کے مقام پر آئیں تو انہوں نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کہا: میرے خیال میں مجھے واپس ہی جانا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: آپ میں سے کون ہے، جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: کیا آپ واپس جائیں گی؟ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے مابین صلح کرا دے۔“
[مسند الإمام أحمد: 97/6، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔ یہ قیس بن ابی حازم کی منکر روایات میں سے ہے۔
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
«شَهِدَ الجَمَلَ قَالَ: لا .»
”کیا قیس بن ابی حازم جنگ جمل میں شریک تھے؟ فرمایا: نہیں۔“ [العلل، ص: 50]
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ يَحْيَى أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، مِنْهَا حَدِيثُ كِلَابِ الْحَوْأَبِ.»
”مجھے امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ نے بتایا کہ قیس بن ابو حازم منکر الحدیث ہے، پھر انہوں نے قیس کی کئی منکر احادیث بھی بیان کیں۔ حواب مقام کے کتوں والی حدیث بھی ان میں شامل تھی۔“
[تاريخ ابن عساكر: 464/49، وسنده صحيح]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ [المغنی: 526/2] کا اس حدیث کو ”ثابت“ قرار دینا متقدم امام کے مقابلہ میں قبول نہیں۔
------------------
حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
«قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِنِسَائِهِ: لَيْتَ شَعْرِي، أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ كِلابُ حَوْأَبٍ، فَيُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا، وعَن يَسَارِهَا قَتْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَ مَا كَادَتْ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات سے فرمایا: کاش! مجھے معلوم ہو کہ تم میں سے کون چہرے کے زیادہ بالوں والے اونٹ پر سوار ہوگی۔ حواب کے کتے نکلیں گے اور اس کے دائیں بائیں بہت زیادہ قتل و غارت ہو گی۔ پھر وہ بال بال بچ جائے گی۔“ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
◈ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«تُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَتْلَى كَثِيرةٌ.»
”اس کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگ قتل کیے جائیں گے۔“ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔
◈ امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رحمہما اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
◈ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
«لَا يُرْوى مِنْ طَرِيقِ غَيْرِه .»
”اس سند کے علاوہ اسے روایت نہیں کیا گیا۔“ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
➋ اس کی ایک ہی سند ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
مقام حواب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی حدیث ”منکر“ ہے۔ بعض لوگ اس منکر روایت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظمت کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ ان کی یہ روش سراسر غلط ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sahih Ibn Hibban Hadith 6731 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي