🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
626. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الوقت الذي ولد فيه الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے پیدا ہونے کا وقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6785
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنَ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لابْنِ صَيَّادٍ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَفَصَهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: مَاذَا تَرَى؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِِنْ لَمْ تُدْرِكْهُ فَلا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لابْنِ صَيَّادٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: لَوْ تَرَكْتِيهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ لوگوں سمیت ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ ان حضرات نے اسے بنو مغالہ کی عمارت کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا، ان دنوں ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا، اسے یہ پتا نہیں چل سکا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: میں اللہ اور (اس کے سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تم کیا چیز دیکھتے ہو؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: میں نے تمہارے لیے ایک بات سوچی ہے۔ ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم دفع ہو جاؤ، تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آ سکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: سالم نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے آپ کو دیکھنے سے پہلے آپ اس کی طرف سے کوئی بات سن لیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی تھی، جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی (تو یہ زیادہ بہتر تھا)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں، ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے) ڈرایا ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں، جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، تم لوگ یہ بات جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6785]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1354، 2638، 3055، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6780، 6785، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4329، 4757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2235، 2241، 2249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4896»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (751 و 752): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← محمد بن شهاب الزهري
صحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6785 in Urdu