الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
686. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6846
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبَ، وَالْبُجَيْرِيُّ بِصُغْدَ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَيْسُورٌ ، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى رَجُلَيْنِ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ يَتَبَايَعَانِهِ، فَلا هُمَا يَنْشُرَانِهِ وَلا هُمَا يَطْوِيَانِهِ، وَتَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى رَجُلٍ وَفِي فِيهِ لُقْمَةٌ، فَلا هُوَ يُسِيغُهَا وَلا هُوَ يَلْفِظُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْحَارِثِ هَذَا هُوَ: مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، وَمَيْسُورٌ هُوَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت ایسے آدمیوں پر قائم ہو گی جن کے درمیان ایک کپڑا ہو گا، جس کے بارے میں وہ سودا طے کر رہے ہوں گے، لیکن وہ نہ تو اسے پھیلا سکیں گے اور نہ ہی اسے سمیٹ سکیں گے۔ قیامت ایک ایسے شخص پر قائم ہو گی کہ اس کے منہ میں ایک لقمہ ہو گا لیکن وہ نہ تو اسے نگل سکے گا اور نہ ہی اسے اگل سکے گا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحارث نامی یہ راوی محمد بن زیاد ہے اور میسور نامی راوی عبدالرحمن کا بیٹا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6846]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحارث نامی یہ راوی محمد بن زیاد ہے اور میسور نامی راوی عبدالرحمن کا بیٹا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6846]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6807»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - بما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي