صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
77. ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم بالولاية لمن والى عليا والمعاداة لمن عاداه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ولایت کی دعا کی جو علی سے ولایت رکھتا اور اس کے لیے عداوت کی دعا کی جو اس سے عداوت رکھتا
حدیث نمبر: 6931
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالا: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَّا قَامَ، فَقَامَ أُنَاسٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ، يَقُولُ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَإِِنَّ هَذَا مَوْلاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ" ، فَخَرَجْتُ وَفِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَقُلْتُ لِفِطْرٍ: كَمْ بَيْنَ هَذَا الْقَوْلِ وَبَيْنَ مَوْتِهِ؟ قَالَ: مِائَةُ يَوْمٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُرِيدُ بِهِ مَوْتَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی غدیر خم کے دن یہ بات سنی ہو میں اسے اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں وہ کھڑا ہو جائے“، تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ میں اہل ایمان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیارا ہوں؟“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو میں جس کا محبوب ہوں یہ (یعنی علی) بھی اس کا محبوب ہے، «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ”اے اللہ تو اُس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھتا ہو اور تو اُس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھتا ہو“۔“ راوی کہتے ہیں: میں وہاں سے لوٹ کر آیا، تو میرے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن تھی میری ملاقات سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے بتایا: میں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ابونعیم نامی راوی کہتے ہیں: میں نے فطر نامی راوی سے دریافت کیا: ان لوگوں اور ان کی موت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ایک سو دن کا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان کی مراد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی وفات تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6931، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8416، وأحمد فى (مسنده) برقم: 651» «رقم طبعة با وزير 6892»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (4/ 331).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6931 in Urdu
علي بن أبي طالب الهاشمي ← زيد بن أرقم الأنصاري