صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
78. ذكر فتح الله جل وعلا خيبر على يدي علي بن أبي طالب رضي الله عنه-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خیبر کی فتح عطا کی
حدیث نمبر: 6932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالُوا: تَشْتَكِي عَيْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاءَ، بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ:" انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِِلَى الإِِسْلامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا، جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح نصیب کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ ساری رات لوگ جاگ کر گزارتے رہے کہ ان میں سے کسے وہ دیا جاتا ہے۔ اگلے دن صبح لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ہر شخص اس بات کا آرزو مند تھا کہ وہ جھنڈا اسے دیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا، علی بن ابوطالب کہاں ہے۔ لوگوں نے عرض کی: ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلواؤ۔ جب وہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئے، یوں جیسے انہیں بھی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عطا کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری مانند (مسلمان) نہیں ہو جاتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ٹھہرو پہلے تم ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی دعوت دو انہیں یہ بتاؤ کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کون سا حق ان کے ذمے لازم ہے اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو یہ چیز تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ مل جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6893»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (342): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي