صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
108. ذكر إثبات محبة الله جل وعلا لمحبي الحسن بن علي رضوان الله عليهما-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا کی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے محبت کرنے والوں کے لیے محبت کی تصدیق
حدیث نمبر: 6963
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَجَاءَ الْحَسَنُ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ الشِّحَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الْحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَخَذَهُ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بِالشِّينِ وَالْحَاءِ، وَإِِنَّمَا هُوَ السِّخَابُ بِالسِّينِ وَالْخَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک بازار میں موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف مڑ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی مڑ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن کو میرے پاس بلا کر لاؤ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے آئے ان کی گردن میں ایک ہار تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور اس شخص سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرتا ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میرے نزدیک کوئی بھی شخص سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن محمد نے یہ لفظ اسی طرح ”ش“ اور ”ح“ کے ساتھ ہمیں بیان کیا حالانکہ اصل لفظ ”سخاب“ ہے یعنی ”دس“ اور ”خ“ کے ساتھ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6963]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میرے نزدیک کوئی بھی شخص سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن محمد نے یہ لفظ اسی طرح ”ش“ اور ”ح“ کے ساتھ ہمیں بیان کیا حالانکہ اصل لفظ ”سخاب“ ہے یعنی ”دس“ اور ”خ“ کے ساتھ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6963]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6924»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (3486): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
نافع بن جبير النوفلي ← أبو هريرة الدوسي