صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
191. ذكر العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه-
- ذکر عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7049
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِِلا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا، قَالَ: بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ، وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ عَلَى بَغْلَتِهِ قِبَلَ الْكُفَّارِ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لا يَأْلُو يُسْرِعُ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبَّاسُ، نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، وَكُنْتُ رَجُلا صَيِّتًا، وَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلادِهَا، يَقُولُونَ: يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ، فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ، فَنَادَتِ الأَنْصَارُ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَنَادُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِِلَى قِتَالِهِمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وجُوهَ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، فَإِِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ، فَمَا أَرَى حَدَّهُمْ إِِلا كَلِيلا، وَأَمْرَهُمْ إِِلا مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ، قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ" .
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ حنین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ یاد ہے کہ آپ کے ساتھ میں تھا اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب تھے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہم آپ سے جدا نہیں ہوئے آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے (یہاں راوی نے بعض اوقات ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے) وہ خچر فروہ بن نفاثہ جذامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کیا تھا جب مسلمانوں اور کفار کا آمنا سامنا ہوا، تو مسلمان پیٹھ پھیر کر پھر گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو کفار کی طرف ایڑ لگانی شروع کی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی میں اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، جو مشرکین کی طرف بڑھنا چاہ رہا تھا جب کہ ابوسفیان بن حارث نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس بیعت رضوان کرنے والے لوگوں کو پکارو۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری آواز بلند تھی میں نے اپنی بلند ترین آواز میں کہا: اے بیعت رضوان کرنے والو! اللہ کی قسم جب انہوں نے میری آواز سنی، تو وہ یوں آئے، جس طرح گائے اپنے بچوں کی طرف آتی ہے اور وہ یہ کہہ رہے تھے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں پھر مسلمان آئے اور انہوں نے اور کفار نے میرے ساتھ جنگ کی پھر انصار نے پکار کر کہا: اے انصار کے گروہ پھر یہ پکار بنو حارث بن خزرج تک مختصر ہو گئی، تو انہوں نے کہا: اے بنو حارث خزرج۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار رہتے ہوئے لڑائی کا بھرپور جائزہ لے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں لیں اور انہیں کفار کی طرف پھینکا اور فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ پسپا ہو جائیں گے رب کعبہ کی قسم یہ پسپا ہو جائیں گے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جائزہ لینے لگا تو جنگ اسی طرح چل رہی تھی، جس طرح میں دیکھ رہا تھا اللہ کی قسم ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف چند کنکریاں پھینکی ہی تھیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بھاگے اور پیٹھ پھیر کر چلے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنے خچر پر سوار ان کے پیچھے جا رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7049]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7009»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (5/ 166 - 167).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
كثير بن العباس الهاشمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي