صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
323. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لأم سليم وأهل بيتها بالخير-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام سلیم اور ان کے گھر والوں کے لیے خیر کی دعا کا
حدیث نمبر: 7186
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ:" أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَصَلَّى صَلاةً غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ، وَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ:" مَا هِيَ؟"، قَالَتْ: خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلا دُنْيَا إِلا دَعَا لِي بِهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ" ، قَالَ: فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالا، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ، قَالَتْ: قَدْ دُفِنَ لِصُلْبِي إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةً.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو انہوں نے کھجوریں اور گھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنا گھی اس کے مشکیزے میں ڈال دو اور اپنی کھجوریں ان کی پوٹلی میں ڈال دو کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کونے کی طرف گئے آپ نے وہاں نفل نماز ادا کی آپ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر میں موجود افراد کو بلایا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیا؟ انہوں نے عرض کی: آپ کا ادنیٰ خادم انس (آپ اس کے لئے دعا کیجئے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت سے متعلق ہر بھلائی کے بارے میں میرے حق میں دعا کی اور پھر آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لئے اس میں برکت رکھ دے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مال (یعنی زمینوں) کے حساب سے میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے کہ حجاج کے بصرہ آنے سے پہلے میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7186]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مال (یعنی زمینوں) کے حساب سے میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے کہ حجاج کے بصرہ آنے سے پہلے میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7186]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7142»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2241): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أنس بن مالك الأنصاري ← أم سليم بنت ملحان الأنصارية