🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
324. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر وصف تزوج أبي طلحة أم سليم-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو طلحہ اور ام سلیم کے نکاح کی کیفیت کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7187
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ لَهُ: مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ، وَلَكِنِّي امْرَأَةٌ مَسْلِمَةٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَلا يَحِلّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي، لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ، فَكَانَتْ لَهُ، فَدَخَلَ بِهَا فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلامًا صَبِيحًا، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَعَاشَ حَتَّى تَحَرَّكَ فَمَرِضَ، فَحَزِنَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ حُزْنًا شَدِيدًا حَتَّى تَضَعْضَعَ، قَالَ: وَأَبُو طَلْحَةَ يَغْدُو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرُوحُ، فَرَاحَ رَوْحَةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَعَمَدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَطَيَّبَتْهُ وَنَظَّفْتُهُ وَجَعَلَتْهُ فِي مِخْدَعِنَا، فَأَتَى أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْسَى بُنَيَّ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ، مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَسُرَّ بِذَلِكَ، فَقَرَّبَتْ لَهُ عَشَاءَهُ، فَتَعَشَّى ثُمَّ مَسَّتْ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ حَتَّى وَاقَعَ بِهَا، فَلَمَّا تَعَشَّى، وَأَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ جَارًا لَكَ أَعَارَكَ عَارِيَّةً، فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ أَخْذَهَا مِنْكَ أَكُنْتَ رَادَّهَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ لَرَادُّهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسُكَ؟ قَالَ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسِي، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَارَكَ بُنَيَّ وَمَتَّعَكَ بِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ قُبِضَ إِلَيْهِ، فَاصْبِرْ وَاحْتَسَبَ، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَ أَبُو طَلْحَةَ وَصَبَرَ، ثُمَّ أَصْبَحَ غَادِيًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ صَنَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، قَالَ: وَحَمَلَتْ مَنْ تِلْكَ الْوَاقِعَةَ فَأَثْقَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَلْحَةَ:" إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَجِئْنِي بِوَلَدِهَا"، فَحَمَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي خِرْقَةٍ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَضَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً فَمَجَّهَا فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَلْحَةَ:" حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ"، فَحَنَّكَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوطلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جواب دیا: ابوطلحہ آپ جیسے شخص کے پیغام کو مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن میں ایک مسلمان عورت ہوں اور آپ ایک کافر شخص ہیں میرے لیے آپ کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے، اگر آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں، تو یہی میرا مہر ہو گا میں اس کے علاوہ کسی چیز کا آپ سے مطالبہ نہیں کروں گی، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہو گئی وہ حاملہ ہو گئیں انہوں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے کچھ عرصہ بعد وہ بچہ بیمار ہو گیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کی وجہ سے انتہائی افسوس ہوا، یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ صبح و شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیچھے بچے کا انتقال ہو گیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو خوشبو لگائی اسے صاف کیا اور اسے ہمارے چھوٹے کمرے میں لٹا دیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر آئے اور دریافت کیا: میرے بیٹے کا کیا حال ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اچھی حالت میں ہے، جب سے وہ بیمار ہوا ہے آج رات سب سے زیادہ پرسکون ہے پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور بہت خوش ہوئے پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے رات کا کھانا پیش کیا انہوں نے رات کا کھانا کھایا پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ خوشبو لگائی اور ان کے سامنے آئیں، یہاں تک کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صحبت کر لی جب انہوں نے رات کا کھانا بھی کھا لیا اپنی بیوی سے صحبت بھی کر لی تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطلحہ آپ کی کیا رائے ہے اگر آپ کے کسی پڑوسی نے آپ کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دی ہو اور آپ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں پھر وہ اس چیز کو آپ سے واپس لینا چاہے تو کیا آپ وہ چیز اسے واپس کر دیں گے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں اللہ کی قسم میں وہ چیز اسے واپس کر دوں گا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اپنی خوشی کے ساتھ؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی خوشی کے ساتھ۔ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرا بیٹا آپ کو عاریت کے طور پر دیا تھا جب تک اس نے چاہا آپ نے اس سے نفع حاصل کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی روح کو قبض کر لیا، تو اب آپ صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے «انا لله و انا الیه راجعون» پڑھا اور صبر سے کام لیا، اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بارے میں بتایا یعنی جو کچھ انہوں نے کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کے لئے برکت رکھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس واقعہ سے حاملہ ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب ام سلیم بچے کو جنم دے تو اس کے بچے کو میرے پاس لے کر آنا، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا اور اسے اس بچے کے منہ میں ڈال دیا، پس بچے نے اسے چوسنا شروع کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انصار واقعی کھجور سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو گھٹی دی اس بچے کا نام رکھا اس کے لئے دعا کی، آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7187]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7143»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (35 - 38).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر بن سليمان الضبعي، أبو سليمان
Newجعفر بن سليمان الضبعي ← ثابت بن أسلم البناني
صدوق يتشيع
👤←👥الصلت بن مسعود الجحدري، أبو محمد، أبو بكر
Newالصلت بن مسعود الجحدري ← جعفر بن سليمان الضبعي
ثقة
👤←👥عمران بن موسى الجرجاني، أبو إسحاق
Newعمران بن موسى الجرجاني ← الصلت بن مسعود الجحدري
ثقة ثبت