صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
397. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لأصحابه بالهجرة وإمضائها لهم-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہ کے لیے ہجرت اور اسے پورا کرنے کی دعا کا
حدیث نمبر: 7261
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَى عَلَى الْمَوْتِ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَبِشَطْرِ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَبِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ بِخَيْرٍ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِيِّ امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ أَصْحَابِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَيَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا وَيُضَرُّ بِكَ آخَرِينَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ" رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث بس ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: ایک تہائی کے بارے میں کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی کے بارے میں کر دو، ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اے سعد! تم اپنے ورثاء کو اچھی طرح سے خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں تنگدست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اے سعد! تم جو بھی چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے تم کو اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور ایسا عمل کرو گے جس کے ذریعے تم اللہ کی رضا چاہو گے، تو اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدر و منزلت میں اضافہ ہو گا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ رہو، اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کچھ لوگوں کو نفع دے اور تمہاری وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو جاری رہنے دینا اور انہیں ایڑیوں کے بل لوٹا نہ دینا۔““ البتہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 56، 1295، 2742، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1628،وابن الجارود فى "المنتقى"، 1019، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2355، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4249، 5349، 6026، 6992، 7261، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1271، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2740، 2864، 3104، والترمذي فى (جامعه) برقم: 975، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2708، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 330، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1457» «رقم طبعة با وزير 7217»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - تقدم (6/ 222 - 223) تنبيه!! ليس موجود بالرقم المشار إليه وإنما موجود بالأرقام الآتية. رقم (4235) = (4249) من «طبعة المؤسسة». رقم (5994) = (6026) من «طبعة المؤسسة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7261 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري