صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
413. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر وصف الأثرة التي أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم للأنصار بالصبر عند وجودها بعده-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس ایثار کی کیفیت کا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو صبر کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 7277
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَى أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَشْهَلِيُّ النَّقِيبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ فِيهِمْ حَاجَةٌ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ قَسَمَ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرَكْتَنَا حَتَّى ذَهَبَ مَا فِي أَيْدِينَا، فَإِذَا سَمِعْتَ بِشَيْءٍ قَدْ جَاءَنَا، فَاذْكُرْ لِي أَهْلَ الْبَيْتِ"، قَالَ: فَجَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ طَعَامٌ مِنْ خَيْبَرَ: شَعِيرٌ وَتَمْرٌ، قَالَ: وَجُلُّ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ نِسْوَةٌ، قَالَ: فَقَسَمَ فِي النَّاسِ، وَقَسَمَ فِي الأَنْصَارِ، فَأَجْزَلَ، وَقَسَمَ فِي أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ، فَأَجْزَلَ، فَقَالَ لَهُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ يَشْكُرُ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَنَّا أَطْيَبَ الْجَزَاءِ أَوْ قَالَ: خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ أَطْيَبَ الْجَزَاءِ أَوْ قَالَ: خَيْرًا مَا عَلِمْتُكُمْ، أَعِفَّةٌ صُبُرٌ، وَسَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الأَمْرِ وَالْعَيْشِ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ عنہ (جو اپنے قبیلے) کے سردار تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے انصار کے کچھ گھرانوں کے ضرورت مند ہونے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کچھ اناج تقسیم کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اس وقت ہمیں ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ ہمارے پاس موجود سب کچھ ختم ہو گیا جب تمہیں اطلاع ملے کہ ہمارے پاس کچھ چیز آئی ہے تم پھر ان گھرانوں کے بارے میں مجھے یاد کرا دینا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر سے کچھ اناج آیا جس میں جو اور کھجوریں بھی تھیں۔ راوی بیان کرتا ہے: اس گھرانے میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج لوگوں میں تقسیم کیا۔ آپ نے وہ اناج انصار میں تقسیم کیا اچھی طرح تقسیم کیا۔ آپ نے اس گھرانے کے لوگوں میں اسے تقسیم کیا انہیں اچھی طرح دیا، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے اللہ کے نبی اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے پاکیزہ ترین (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سب سے بہتر جزا عطا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سب سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بہتر جزا عطا کرے مجھے تمہارے بارے میں یہ بات پتہ ہے تم مانگنے سے بچتے ہو اور صبر سے کام لیتے ہو۔ عنقریب تم میرے بعد حکومت اور زندگی کے دیگر معاملات میں اپنے ساتھ ترجیحی سلوک دیکھو گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7277]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7233»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3096).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
يحيى بن سعيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري