صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
140. باب قراءة القرآن - ذكر إباحة تحزين الصوت بالقرآن إذ الله أذن في ذلك
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اجازت کہ قرآن کے ساتھ آواز کو حزین کیا جائے کیونکہ اللہ نے اس کی اجازت دی
حدیث نمبر: 751
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبَجٍ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ثُمَّ سَمِعْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ" يُرِيدُ يَتَحَزَّنُ بِهِ، وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الْغُنْيَةِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الْغُنْيَةِ، لَقَالَ: يَتَغانَى بِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: يَتَغَنَّى بِهِ، وَلَيْسَ التَّحَزُّنُ بِالْقُرْآنِ نَقَاءَ الْجِرْمِ، وَطِيبَ الصَّوْتِ، وَطَاعَةَ اللَّهَوَاتِ بِأَنْوَاعِ النَّغَمِ بِوِفَاقِ الْوِقَاعِ، وَلَكِنَّ التَّحَزُّنَ بِالْقُرْآنِ هُوَ أَنْ يُقَارِنَهُ شَيْئَانِ: الأَسَفُ وَالتَّلَهُّفُ: الأَسَفُ عَلَى مَا وَقَعَ مِنَ التَّقْصِيرِ، وَالتَّلَهُّفُ عَلَى مَا يُؤْمَلُ مِنَ التَّوْقِيرِ، فَإِذَا تَأَلَّمَ الْقَلْبُ وَتَوَجَّعَ، وَتَحَزَّنَ الصَّوْتُ وَرَجَّعَ، بَدَرَ الْجَفْنَ بِالدِّمُوعِ، وَالْقَلْبَ بِاللُّمُوعِ، فَحِينَئِذٍ يَسْتَلِذُّ الْمُتَهَجِّدُ بِالْمُنَاجَاةِ، وَيَفِرُّ مِنَ الْخَلْقِ إِلَى وَكْرِ الْخَلَوَاتِ، رَجَاءَ غُفْرَانِ السَّالِفِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَالتَّجَاوُزِ عَنِ الْجِنَايَاتِ وَالْعُيُوبِ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ التَّوْفِيقَ لَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی کو سنتا ہے، جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھے“ اس سے مراد اس کو دردمندی سے پڑھنا ہے۔ اگر یہ «الْغُنْيَةِ» (یعنی خوش الحانی) سے ماخوذ ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے: «يَتَغَانٰی بِهٖ»، یہ نہ کہتے: «يَتَغَنّٰى بِهٖ» ۔ قرآن کو دردمند انداز میں پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حلق پر بوجھ لادا جائے یا آواز کو سنوارا جائے یا نغمگی کی پیروی کرتے ہوئے (آواز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جائے)، قرآن کو دردمندانہ انداز میں پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کے ہمراہ دو چیزیں ہوں: افسوس کا اظہار کرنا اور غمگین ہونا، یعنی آدمی سے جو غلطیاں سرزد ہوئی تھیں ان پر افسوس کا اظہار کرنا اور جس توقیر کی خواہش ہو اس پر غمگین ہونا۔ جب دل الم اور تکلیف کو محسوس کرے، تو آواز غمگین ہو جائے اور وہ ترجیع کرے، آنکھیں آنسو بہائیں اور دل روشن ہو، تو اس صورت میں مناجات کے ہمراہ تہجد پڑھنے والے کو لذت محسوس ہو گی اور وہ شخص مخلوق سے فرار ہو کر خلوت کے گھونسلے (یعنی اس کی پناہ) میں آ جائے، اس بات کی امید رکھتے ہوئے کہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے اور اس کے جرائم اور عیوب سے درگزر کیا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5023، 5024، 7482، 7544، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 751، 752، 7196، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1473، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7785، والحميدي فى (مسنده) برقم: 979» «رقم طبعة با وزير 748»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1324): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، حامد بن يحيى: ثقة روى له أبو داود، ومن فوقه من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 751 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي