صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
164. باب قراءة القرآن - ذكر كيفية قسمة فاتحة الكتاب بين العبد وبين ربه
قرآن کی تلاوت کا بیان - فاتحہ الکتاب کی تقسیم کا طریقہ بندے اور اس کے رب کے درمیان بیان کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 776
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" قَالَ:، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، ثُمَّ قَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قُسِمَتِ الصَّلاةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِبَادِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَنِصْفُهَا لِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، إِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَالَ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، وَمَا بَقِيَ فَلِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7. فَهَذَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْمُغِيرَةِ: عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ الْخَوْلانِيُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، تو وہ نماز ناقص ہوتی ہے، وہ ناقص ہوتی ہے، وہ مکمل نہیں ہوتی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کو) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے، اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور نصف حصہ میرے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا، جب بندہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 2﴾ ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، جب بندہ «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿سورة الفاتحة: 3﴾ ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، جب بندہ «مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ» ﴿سورة الفاتحة: 4﴾ ”بدلے کے دن کا مالک“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ (یہ بعد والی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے وہ کہتا ہے: «إِیَّاكَ نَعْبُدُ وَإِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ» ﴿سورة الفاتحة: 5﴾ ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“ اور اس کے بعد والا باقی حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا وہ یہ پڑھتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 6-7﴾ ”تو صراط مستقیم کی طرف ہمیں ہدایت دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تو نے اپنا انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر غضب نازل کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)، تو یہ چیز میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومغیرہ نامی راوی کا نام عبدالقدوس بن حجاج خولانی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 395، ومالك فى (الموطأ) برقم: 278، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 489، 490، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 776، 1784، 1788، 1789، 1794، 1795، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 908، وأبو داود فى (سننه) برقم: 821، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2953، 2953 م 1، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 168، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1189، 1209، 1224، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7411»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة» (ص 97): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن ثوبان: واسمه عبد الرحمن بن ثابت العنسي الدمشقي - فيه ضعف خفيف - فهو ممن يكتب حديثه للمتابعة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 776 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي