یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
243. باب الأذكار - ذكر إثبات مغفرة الله جل وعلا للقوم الذين يذكرون الله مع سؤالهم إياه الجنة وتعوذهم به من النار نعوذ بالله منها
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ان لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے جو اس کا ذکر کرتے ہیں اور اس سے جنت مانگتے ہیں اور اس سے جہنم سے پناہ مانگتے ہیں، ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلائِكَةً فُضُلا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، يَمْشُونَ فِي الطُّرُقِ، يَلْتَمِسُونَ الذِّكْرَ، فَإِذَا رَأَوْا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَاتِكُمْ، فَيَحُفُّونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ جَلَّ وَعَلا، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، فَيَقُولُ: عِبَادِي مَا يَقُولُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، يُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَسْبِيحًا وَتَمْجِيدًا وَتَكْبِيرًا وَتَحْمِيدًا، فَيَقُولُ: مَاذَا يَسْأَلُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ يَا رَبِّ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ لَهُمْ: هَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ طَلَبًا وَأَشَدَّ حِرْصًا، فَيَقُولُ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ تَعَوُّذًا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں، وہ راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں جب وہ کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جواللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں، تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔ اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ پھر وہ آسمان تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں، تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار! وہ تیری تسبیح اور تیری حمد بیان کرتے ہیں: پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ تیری تسبیح، تیری بزرگی تیری کبریائی، وہ تیری حمد بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کیا چیز مانگتے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا، تو فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو زیادہ شدت کے ساتھ اسے طلب کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کے اصول کے خواہش مند ہوتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں فرشتے عرض کرتے ہیں وہ جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے، تو پروردگار فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6408، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 856، 857، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1827، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3600، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7542» «رقم طبعة با وزير 853»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3852): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 856 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي